احمد مشتاق

احمد مشتاق یکم مارچ 1933ء کو امرتسر، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر اور اسکول میں حاصل کی۔ ان کا خاندان تقسیم ہند کے ایک ماہ بعد پاکستان منتقل ہو گیا لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں آ کر آباد ہو گیا۔ میٹرک کاامتحان اگست 1948ء میں لاہور میں دیا۔ ایف اے اور بی اے پرائیویٹ طور پر کرنے کے بعد جامعہ پنجاب سے ایم اے (اردو) کی سند امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے بینکار رہے۔ 1984ء کو پاکستان کو خیرباد کہہ کر امریکا میں جا بسے۔ وہاں بھی بینک میں ملازم رہے۔ 1998ء کو ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد فلوریڈا چلے گئے اور اب ہوسٹن میں مقیم ہیں۔وہ اردو کے صاحبِ اسلوب شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری کلیات احمدمشتاق کے نام سے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کی ہے۔ ان کی شناخت شاعری کے ساتھ ترجمہ نگاری بھی ہے۔ انہوں نے انگریزی، فارسی اور پنجابی زبان کے اہم شعرا اور فکشن نگاروں کے متعدد شعری و نثری تخلیقات کو اردو میں ترجمہ کرنے کے علاوہ کچھ رجحان ساز مصوروں پر لکھے گئے اہم مضامین کو اردو میں منتقل کیا۔ انہوں نے پرتگالی ادیب حوزے ساراماگو کے ناول Blindness کا اردو ترجمہ اندھے لوگ کے نام ، میکسیکو کے ناول نگار حوان رلفو کے ناول Pedro Paramo کو بنجر میدان کے نام سے اور ایوان ترگنیف کے ناول Home of Gentry کا ترجمہ آشیانہ کے نام سے اردو میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ نصف صدی سے زائد عرصہ میں مختلف رسائل و جرائد میں چھپنے والے شعری و نثری تراجم حدیثِ دیگراں کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔